ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ضلع شمالی کینرا میں   لائسنس والی بندوقوں کی تعداد ہے 9ہزار ۔ایس پی کے دفترمیں لائسنس کی تجدید کے لئے پڑ ی ہیں  5ہزار بندوقیں 

ضلع شمالی کینرا میں   لائسنس والی بندوقوں کی تعداد ہے 9ہزار ۔ایس پی کے دفترمیں لائسنس کی تجدید کے لئے پڑ ی ہیں  5ہزار بندوقیں 

Tue, 08 Dec 2020 12:40:29    S.O. News Service

کاروار،8؍دسمبر(ایس او نیوز)کھیتی باڑی کرنے والوں کو اپنی فصلوں کی حفاظت کرنے یا پھر کسی کو جان کا خطرہ لاحق ہونے پر خودکی حفاظت کے لئے  بندوقیں رکھنے کی اجازت سرکاری طورپردی جاتی ہے۔ اس کے لئے ضلع  ڈی سی کے پاس درخواست دینی ہوتی ہے ، جس کے بعد ایس پی  اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے  جانچ پڑتال کا عمل پوراہونےکے بعد درخواست گزار کو بندوق رکھنے کا لائسنس  دیا جاتا ہے۔

سب سے زیادہ بندوقوں والا ضلع:   ایک تازہ جائزہ کے مطابق شمالی کینرا  میں اس وقت لائسنس یافتہ بندوقوں کی تعداد    9ہزار ہے اور یہ ضلع ریاست بھر میں سب سے زیاد ہ لائسنس والی بندوقیں رکھنے والا ضلع بن کر سامنے آیا ہے۔مگر حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ اس میں سے  لائسنس کی تجدید کے  لئے جمع کروائی گئی 5ہزار بندوقیں  ایک عرصے سے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے ڈمپنگ یارڈ میں پڑی ہوئی ہیں ۔ خیال رہے کہ ایک بار لائسنس ملنے کے بعد ایک مقررہ وقفے سے اس لائسنس کی تجدید کروانا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن ضلع سطح پر یہ کام اتنی سست رفتاری سے ہوتا ہے اور کچھ پیچیدگیاں ایسی کھڑی ہوجاتی ہیں کہ ایک بار لائسنس  کی تجدید کے لئے بندوق جمع کروانے کے بعد بندوق واپس ملنے کے انتظار میں بیٹھے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

فصلوں کی حفاظت کے لئے بندوق:    محفوظ جنگلات اورجنگلی جانوروں کی  پناہ گاہوں(سینکچوریس) کے قریب10کیلومیٹر تک  رہنے والوں کے بندوق کے لائسنس قانونی طور پر جاری نہیں کیے جاتے ۔ ضلع میں کالی ریزرو فاریسٹ اور دیگر سینکچوریس وغیرہ رہنے کے بعد بھی اتنی بڑی مقدار میں بندوقوں کو لائسنس کس طرح جاری کیے گئے ہیں اس  پر تعجب ہوتا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں چونکہ 80فی صد جنگلاتی علاقہ ہے اور اس کے اطراف کھیتی باڑی کرنے والوں کے لئے فصلوں اور خود کی حفاظت کے لئے بندوقیں ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگلی جانوروں سےخود کو یا فصلوں کو بچانے کے لئے جو بندوق رکھنے کے لائسنس دئے جاتے ہیں اگر اس سے ایک مینڈک کوبھی ما ردیا جائے تو محکمہ جنگلات کے قانو ن کے مطابق اس شخص پر کیس دائر ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب حالات کشیدہ ہوتے ہیں یا الیکشن  ہوتے ہیں تو انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت تمام بندوقوں کو متعلقہ پولیس اسٹیشنوں میں جمع کروانا ہوتا ہے۔اس طرح  قانونی طور پران بندوقوں کا استعمال کرنے کے مواقع کم ہی حاصل ہوتے ہیں۔

بندوق رکھنا بھی  ایک شوق ہے: ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار کا کہنا ہے کہ لوگ شوقیہ طور پردیسی بندوق  یا گن کے لئے لائسنس طلب کرتے ہیں۔آخر گن کیوں چاہیے؟ اس سے ایک مینڈ ک کو بھی مارو گے تو کیس درج ہوگا۔ جب سے میں یہاں ڈی سی بن کر آیا ہوں اب تک پانچ معاملے ایسے سامنے آئے ہیں جس میں لائسنس والی بندوق کا  غلط استعمال کیا گیا ہے۔ جس کسی کو بندوق چاہیے اس کو یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ کس لئے گن چاہیے؟

بتایا جاتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں بندوقوں کے لائسنس رکھنے والوں کو مناسب تربیت دینا اور پھر ہزاروں کی تعداد میں لائسنس کی تجدید کرنا محکمہ پولیس کے لئے ایک بڑا سردرد بن گیا ہے۔


Share: